روز جزا

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - اعمال کا بدلہ ملنے کا دن، روزِ حشر، یومِ حساب۔ "بے حد مہربان، نہایت رحم والا مالک روزِ جزا کا۔"      ( ١٩١٧ء، القرآن الحکیم، ترجمہ مولانا محمودالحسن، ٢ )

اشتقاق

فارسی اسم 'روز' کو کسرۂ اضافت کے ذریعے عربی سے مشتق اسم جزا کے ساتھ ملا کر مرکب اضافی بنایا گیا ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اعمال کا بدلہ ملنے کا دن، روزِ حشر، یومِ حساب۔ "بے حد مہربان، نہایت رحم والا مالک روزِ جزا کا۔"      ( ١٩١٧ء، القرآن الحکیم، ترجمہ مولانا محمودالحسن، ٢ )

جنس: مذکر